حمزہ نے کھلونوں والی ڈاکٹر کِٹ کھولی۔ گھر میں کسی کو معمولی تکلیف ہوتی تو وہ فوراً اسٹیتھوسکوپ آگے کر دیتا۔
حمزہ نے کہا، "ڈاکٹر حمزہ حاضر ہے!" اچانک کھلونا تھرمامیٹر اچھل کر فرش پر گرا۔ ٹن ٹن!
حمزہ پٹی اور چمچ لایا، مگر جلدی میں دونوں الٹے پکڑ لیے۔ وہ خاموشی سے سن کر بولا، "کہاں تکلیف ہے؟"
حمزہ نے سوچا، "اگلی مدد کلینک سے لینی چاہیے۔" اس نے کِٹ سنبھالی اور دروازے کی طرف چل پڑا۔
محلے کے چھوٹے کلینک میں حمزہ نے کِٹ میز پر رکھی۔ دروازے کی گھنٹی ٹن ٹن ہوئی، اور اس نے گھر کی معمولی تکلیف بتائی۔
حمزہ نے ڈاکٹر کی ہر بات غور سے سنی۔ وہ ہر جملہ آہستہ آہستہ دہراتا گیا تاکہ کچھ نہ بھولے۔
ڈاکٹر کی نگرانی میں حمزہ نے نرم روئی اور پٹی آگے بڑھائی۔ وہ ایک لمحہ رکا، پھر ڈاکٹر کی مسکراہٹ دیکھ کر مدد کرنے لگا۔
حمزہ گھر واپس آیا اور کِٹ اپنی جگہ رکھ دی۔ پھر اس نے آہستہ سے پوچھا، "بتائیں، کہاں تکلیف ہے؟"
اب حمزہ پہلے سنتا، پھر نرمی سے مدد کرتا۔ ضرورت پڑتی تو فوراً بڑے ڈاکٹر کو بلاتا؛ اسٹیتھوسکوپ پھر ٹن ٹن کرتا۔
حمزہ نے اسٹیتھوسکوپ سنبھالا اور دوبارہ کہا، "ڈاکٹر حمزہ حاضر ہے!" پھر وہ پہلے سے زیادہ غور سے سننے لگا۔